میرا آئینہ اب جھوٹ نہیں بولتا
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky) , K.S.Aمیرا آئینہ اب جھوٹ نہیں بولتا
میرے اندر اب کوئی دم نہیں توڑتا
میں سب کو چھوڑ آئی ہوں اس لیے
کے جانے والوں کو کوئی نہیں روکتا
کانٹوں کے سفر پر خاموش چلتی رہی
بولنے والے کے ساتھ کوئی نہیں بولتا
یہ آزمائش ہے کٹ ہی جانی ہے
صبر والوں کو خدا تنہا نہیں چھوڑتا
تجھے تڑپتا دیکھ کر کیوں ُدکھ ہوا مجھے
جبکہ تلخیوں کے طوفانوں کو ُتو نہیں موڑتا
اپنے آنسؤں کو تو وہ تولنے بیٹھ گیا
میرے بہائے سمندروں کا پتا نہیں پوچھتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






