عذاب بھی
Poet: M Umar Farooq Dervi By: M Umar Farooq Dervi, Shadan Lond,DG Khanمری یاد میں مری زندگی، ہے عذاب بھی اور خواب بھی
میں سفر میں یا حضر میں، مرے ساتھ تم ہو جناب بھی
دفن کروں یا ختم کروں میرا بس چلے جو عشق پہ
کہ جان بھی ہے چھوٹتی اور ثواب کا ہے ثواب بھی
تو معمہ تھا نہ حل ہوا، میں بھی سوچ سوچ حیراں ہوا
’’بھلا تجھ میں تھا رکھا کیا؟۔‘‘، یہ سوال بھی ہے جواب بھی
میں ساتھ ہوا تو تپش ہوئی جو دور ہوا تو ٹھٹھر گیا
میں آفتاب کا یار ہوں، یہ عذاب بھی ہے خطاب بھی
وہ جو قرب تھا وہ فراق ہوا، میری زندگی بھی اجڑگئی
جب سے میں ملا ہوں تمھیں عمر،یہ ڈراتے ہیں مجھے خواب بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






