میری داستاں ہے جو بےنشاں
Poet: habib ur rehman By: habib ur rehman , chakwalمیری داستاں ہے جو بےنشاں
نہیں عشق کی ہے یہ انتہا
کہ میں زندہ ہوں اک آس پر
نہیں یہ جفاؤں کی انتہا
میرے دل میں رہ اک کمی گئی
کہ وہ پوریی ہو ہے یہ اانتہا
لب یار میں رہی نہ سکت
طوفان شور کی ہے یہ انتہا
سبب اس کے قریب اجل میں ہوں
بے وفائی کی ہے یہ انتہا
نظر آدم نے کیا ہے یہ اخذ
میرے عزر کی ہے یہ انتہا
ہوا آشنا ہوں ابھی دور سے
ہے یہ نا آشنائ کی انتہا
کہ بہانے اس کہ ہزار ہیں
میرے مرنے کی ہے یہ انتہا
شوق دیدار جو سبب معراج بنا
محبتوں کی ہوئ ہے یہ انتہا
جو تھے فاصلے سب ہی سمٹ گۓ
رکے جبرائل ہے یہ انتہا
دیا تحفہ کتنا وہ دل نشیں
نہ سمٹ سکا ہے یہ انتہا
کہ مثال زمانہ وہ بن گئی
وفاوں کی ہوئ ہے یہ انتہا
حبیب تو بھی پیدا مثال کر
جو محبت ہے کی انتہا کی کر
کہ زمانہ کرتا رہے یہ ورد
ہے یہ انتہا،ہے یہ انتہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






