میرے آخری دیدار کو آئے ہیں
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMجب بھی کسی سے مراسم بڑھائے ہیں
ہم نے تو دکھ ہی دکھ پائے ہیں
جس کسی کو سنائی ہے روداد اپنی
اسے سن کر اس نے آنسو ہی بہائے ہیں
بستر مرگ سے اٹھ اٹھ کے دیکھ رہا ہوں
کہ شاید وہ میری عیادت کو آئے ہیں
یہ محبت کا کھیل ہی کچھ ایسا ہے
ہم نے تو اس میں زخم ہی کھائے ہیں
ہمارے حال سے وہ کچھ ایسا بے خبر رہا
جس کی خاطر دنیا بھر کے غم اٹھائے ہیں
دوستو اصغر کا چہرہ نہ ڈھانپو آج
شاید وہ میرے آخری دیدار کو آئے ہیں
More Love / Romantic Poetry






