میزبان ہو مے
Poet: By: syed hammad raza naqvi, faisalabadغم عاشقاں بھی نہیں غم دنیا بھی نہیں
ان کی معصوم نزاکت سے پریشاں ہوں مے
وہ مجھ سے شکوہ نہی کرتے اور محبت بھی نہی کرتے
اے زندگی تیرے واسطے امتحاں ہوں مے
اس راز کے ہمراز تو ہوں گے ہزاروں
کہتے ہے جسکو رازداں ہوں مے
میرا داغ دار دامن تو ہے دنیا کیلئے
تیرے واسطے تو آج بھی بے گناہ ہوں مے
مجھے چوٹ دینے سے پہلے اتنا تو دیکھیے رضا
کہ ناراض بہاروں کا آج بھی میزباں ہوں مے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






