میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چھوڑ دوں
Poet: اشہد By: Maaz, Islamabad!میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چھوڑ دوں۔۔۔۔”
“تنہائی نے تنہائی میں میرا بہت ساتھ دیا ہے
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺮ، ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻼ
“…ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉتے ڈھونڈتے
چار دن آنکھ میں نمی ہو گی۔۔۔۔”
“ہم مر بھی گئے تو کیا کمی ہو گی۔۔
دیکھنے کو سارا عالم بھی کم ہے۔”
“.چاہنے کے لیے ایک چہرہ بہت۔۔
مسکرانے سے شروع اور رلانے پہ ختم”
“یہ اک ظلم ہے جسے لوگ محبت کہتے ہیں
تو مجھے چھوڑ کے جانے لگا تو یقین آیا ہے”
“سانسوں کے سوا کچھ بھی تو ضروری نہیں ہوتا
یاد اس کی ابھی بھی آتی ہے”
“بری عادت ہے،کہاں جاتی ہے
کبھی پاس بیٹھو تـــو بتائیں کہ درد کیا ہے”
” یوں دور سے پوچھو گے تو خیریت ہی بتائیں گے
ضبط کی آخری منزل پہ کھڑا شخص ہوں میں”
”…اس سے آگے میری آنکھوں نے پگھل جانا ہے
انتظار تھا ہم کو جن کا برسوں سے”
“وہ آئے تو تھے مگر بچھڑ جانے کے لیے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






