میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چھوڑ دوں
Poet: اشہد By: Maaz, Islamabad!میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چھوڑ دوں۔۔۔۔”
“تنہائی نے تنہائی میں میرا بہت ساتھ دیا ہے
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺮ، ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻼ
“…ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉتے ڈھونڈتے
چار دن آنکھ میں نمی ہو گی۔۔۔۔”
“ہم مر بھی گئے تو کیا کمی ہو گی۔۔
دیکھنے کو سارا عالم بھی کم ہے۔”
“.چاہنے کے لیے ایک چہرہ بہت۔۔
مسکرانے سے شروع اور رلانے پہ ختم”
“یہ اک ظلم ہے جسے لوگ محبت کہتے ہیں
تو مجھے چھوڑ کے جانے لگا تو یقین آیا ہے”
“سانسوں کے سوا کچھ بھی تو ضروری نہیں ہوتا
یاد اس کی ابھی بھی آتی ہے”
“بری عادت ہے،کہاں جاتی ہے
کبھی پاس بیٹھو تـــو بتائیں کہ درد کیا ہے”
” یوں دور سے پوچھو گے تو خیریت ہی بتائیں گے
ضبط کی آخری منزل پہ کھڑا شخص ہوں میں”
”…اس سے آگے میری آنکھوں نے پگھل جانا ہے
انتظار تھا ہم کو جن کا برسوں سے”
“وہ آئے تو تھے مگر بچھڑ جانے کے لیے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






