میں زندگی کے بڑے امتحاں بناتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاترا یقین ہوں کب سے جہاں بناتے ہیں
میں زندگی کے بڑے امتحاں بناتے ہیں
شجر شجر مری آمد کا منتظر موسم
میں برگ ہواؤں میں اڑاں بناتے ہیں
یہ دور علم و ہنر اس کو پڑھ نہیں پایا
صحیفہ دل کس کی یہ زباں بناتے ہیں
عجیب لطف ہے اس ٹوٹنے بکھرنے میں
ہم ایک مشت غبار اب کہاں بناتے ہیں
جو خاک ہو گئے تیرے فراق میں ان کا
خیال بھی کبھی اے جان جاں بناتے ہیں
جو مصلحت کے تقاضے کے تحت لکھے گئے
سو مستقل یہ فسانے نشاں بناتے ہیں
رہے قریب ، مرے رازداں نہ بن وشمہ
تھی دوستی تو بہت مہرباں بناتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






