نظم آزاد

Poet: ملک جمال شہزاد By: MALIK JAMAL SHAHZAD, Rawalpindi

وہ تیرے نام کے صدقے جو اُتارے ہر دن
اسی وجہ سے سنورتے ہیں ہمارے ہر دن

تیری گلی میں جو کشکول لیے پھرتے ہیں
تیرے دیدار کے طالب ہیں بیچارے ہر دن

دیار غیر میں اے دل کوٸی امید نہ رکھ
اب ملتے نہیں ہیں ہم کو سہارے ہر دن

ہمیں سکوں نہ میسر تو بےقرار ہیں ہم
دل یہ کہتا ہے کوٸی ہم کو پکارے ہر دن

جو من میں بسی یاد کا محور ہے جمال
کاش وہ یاد ہماری میں گزارے ہر دن

 

Rate it:
Views: 38
16 May, 2026
More Love / Romantic Poetry