وصال کے چاند ابھی ڈھلے بھی نہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمجھے اندھیرے میں دیکھ کر کیوں ڈرتے ہو
میرے خیال میں وصال کے چاند ابھی ڈھلے بھی نہیں
یوں تو تم نے بدل لیے راستے اپنے
ابھی تو میری نظروں سے دور گئے بھی نہیں
کون بانٹ رہا ہیں زمانے میں خوشیاں
میرے دامن میں تو پھول کھلے بھی نہیں
میری ُسرخ آنکھوں نے کر دیا بیان ُاس پر
کہ جدائی کے بعد ہم سھبلے بھی نہیں
مجھے رفو کرتا کرتا نجانے وہ کدھر گیا
میرے دل کے زخم تو ابھی سلے بھی نہیں
تم پھر سے جانے کی بات کرتے ہو
میری آنکھوں کی پیاس تو ابھی بھجی بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






