وفاؤں کے سفر پر
Poet: حفضہ اقبال By: حفضہ اقبال , Gujranwalaوفاؤں کے سفر پر
تھک گیا تھا وہ بھی
تھک گئ تھی میں بھی
جو ہاتھ چُھوٹے تھکن پر
ٹوٹ چُکا تھا وہ بھی
ٹوٹ چُکی تھی میں بھی
صبر تھا لازم سو ہم کرتے رہے
جب تک تھا شکستہ وہ بھی
شکستہ تھی میں بھی
سانس چلتی تھی بوجھ نہ تھی
جب تک ہجر پہ روتا تھا وہ بھی
ہجر پہ روتی تھی میں بھی
پھر سب بدلنے لگا
وہ گِرا سِمٹا اُبھر گیا
میں گِرا نہ سمبھلا بکھر گیا
وقت گزرتا صدیوں نُما هو گیا
وہ کتنوں کے جینے کی وجہ هوگیا
میں اب بھی وفاؤں کے سفر پر
وہ بھی، میں بھی کی
پڑھتی رہتی ہوں تسبیح
مگر ہیں دانے بکھر گئے
وفا کے دھاگے اُلجھ گئے
"وہ" کے دانے نہیں ملتے
میں "میں" کو وہاں پروتی ہوں
یوں دن سے رات ہوتی ہے
کبھی 'میں'کبھی 'وہ' بن جاتی ہوں
وفاؤں کے سفر پر
بے وجہ ھی چلتی جاتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






