وہ آئینہِ زیست سے اپنا پیکر کبھی واپس نہیں لیتا
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratمیں آگ میں بھیگ جاتا ہوں، جلتا ہوں سمندر میں
میرا احساس مجھ کو مار جاتا ہے میرے گھر میں
میں منصف تھا تو دوستی کو خاطر میں نہیں لایا
اب تعلق رسوائی ٹھہرا ہے دوستوں کی نظر میں
میں ہنگاموں سے گھبرا کر چلا آیا جو جنگل میں
یہاں بھی خوف وہی ہے جو چھوڑ آیا ہوں شہر میں
میری امارت مجھے اغیار میں بھی عزیز رکھتی ہے
تہیِ داماں میں جب تھا تو اکیلا تھا جہاں بھر میں
وہ آئینہِ زیست سے اپنا پیکر کبھی واپس نہیں لیتا
جو جاتا ہے وہ خوابوں سے تو آ جاتا ہے تصور میں
میں منزل چھوڑ آیا ہوں کہیں رستے میں پیچھے ہی
مظہر یہ عمر گزرے گی اب کسی انجان سفر میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







