وہ اجنبی اسما
Poet: shehzad butt shaz By: shehzad butt shaz, karachiنہ دیکھا ہے جس کو کیوں دل پہ وہ چھا گیا
وہ اجنبی اپنی زندگی کو میرا مقدر بنا گیا
نہ ہو اسے درد کوئی میری ہی طرح
وہ اجنبی رات کی میری نیندیں چرا گیا
یہ پیار ہے یا اظہار ہے میرے دل کا
میرا ان دیکھا یار مجھے دیوانہ بنا گیا
نہ مل کر اس کو کیفیت قلب جو ہے اس طرح
وہ اجنبی کیوں مجھ کو پاگل بنا گیا
مر جاتے پی کر ہم بھی زہر الفت لیکن
وہ اجنبی اس زہر کو امرت بنا گیا
دعا ھے میری نظر نہ لگے تیرے پیار کو صاَز
وہ اجنبی اسما، قدر دل سے مٹا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






