وہ مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں
Poet: بلال شیخ By: Bilal Sheikh, Lahoreوہ مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں
ستم ناسُور ہوتے جا رہے ہیں
سبھی ہم پر ستم کرنے لگے ہیں
تمہیں منظور ہوتے جا رہے ہیں
نبھاتے ہی نہیں رسم ِوفا وہ
بہت مجبور ہوتے جا رہے ہیں
کرے گا کون قابو میرے جذبے
یہ مثل ِطُور ہوتے جا رہے ہیں
ہمارے حال پر رحمت خدایا
غموں سے چُور ہوتے جا رہے ہیں
گلی میں پھر تمہاری آ گئے ہم
قدم مجبور ہوتے جا رہے ہیں
جو کُرسی کا بھرم رکھنا نہ چاہیں
وہی مامور ہوتے جا رہے ہیں
بلال آخر تمہارے شعر بھی اب
بہت مشہور ہوتے جا رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






