وہ ملا کرتی تھی ہر شب
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiپہلے ملتی تھی جو بے وفا نہیں ملتی
شائد ہے وہ اس قدر خفا نہیں ملتی
ممکن ہے کہ نابینا کو یہ بھی خبر نہیں
لب دریا کبھی پانی کی صدا نہیں ملتی
اب کیا کہوں میں قصہ بے وفائی کا
میرے کتھا سے اس کی کتھا نہیں ملتی
باتوں کی تیری خوشبو ہوا لے اڑی کہاں؟
پوچھوں گا مگر باد صبا نہیں ملتی
ایماں مجھے روکے وہ جوانی نہیں رہی
کافر مجھے کھینچے وہ ادا نہیں ملتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







