پاؤں میں ہے حالات کی زنجیر پرانی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiپاؤں میں ہے حالات کی زنجیر پرانی
آنکھوں میں لیے پھرتی ہوں تصویر پرانی
ہر لفظ میں پنہاں ہے ترے پیار کا قصہ
دیکھی ہے ترے ہاتھ کی تحریر پرانی
ملتی ہے مجھے روز سزا اپنی انا کی
ویسے تو محبت میں ہے تقصیر پرانی
اب تک ہے ترے لمس کا احساس مری جاں
ہوتی ہے کہاں وصل کی تاثیر پرانی
یہ شام ترے ہجر کی یہ شوق کا عالم
یہ میری جوانی کی ہے جاگیر پرانی
دشمن کے مقابل میں کھڑی ہوتی ہوں وشمہ
ہاتھوں میں لئے عہد کی شمشیر پرانی
More Love / Romantic Poetry






