پھر کوئی تارا گرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississaugaپھر کو ئی تا را گرا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
سو چ کر پھر د ل بر ا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
یہ تو ممکن ہے کہ کو ئی ا و ر ہو پیشِ نظر
ذ ہن میں بھی د وسرا ہو ، یہ ضرو ری تو نہیں
و یسے تو پھر سے ہمیں ہنسنا سکھا یا و قت نے
ز خمِ د ل بھی بھر گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
آ نکھ ملنےَ کے لیے کچھ تو بہا نہ چا ہئے
آ نکھ میں کچھ پڑ گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُ س سے و ہ ا چھے مرا سم نہ سہی پر دوستو
ہم بھلے او ر و ہ برُا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
طیش میں بیٹھے ہیں جتنا آ پ اُس سے رُوٹھ کر
و ہ بھی اِ تنا ہی خفا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو ا بتک تمہا ری راہ تکتی ہے نظر
د ل کو بھی کچھ آ سرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ایک مصر عے سے جڑا ہو دوسرا مصرعہ کو ئی
ہم و ز ن ہم قا فیہ ہو ،إإإإ یہ ضروری تو نہیں
شا عر ی کیجئے مگر ہر شعر میں ا س شخص کی
بے و فائی کا گلا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُسکے بارے میں بہت کچھ شاعری میں کہہ دیا
لیکن ہم نے سچ کہا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
گرچہ ہم نے آپ سے ترکِ تعلق کر لیا
پر ہمیں اچھا لگا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو بیٹھے ہیں انور دوستوں کے درمیاں
دل بھی ا نکا لگ رہا ہو یہ ضروری تو نہیں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






