پھر کوئی تارا گرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississaugaپھر کو ئی تا را گرا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
سو چ کر پھر د ل بر ا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
یہ تو ممکن ہے کہ کو ئی ا و ر ہو پیشِ نظر
ذ ہن میں بھی د وسرا ہو ، یہ ضرو ری تو نہیں
و یسے تو پھر سے ہمیں ہنسنا سکھا یا و قت نے
ز خمِ د ل بھی بھر گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
آ نکھ ملنےَ کے لیے کچھ تو بہا نہ چا ہئے
آ نکھ میں کچھ پڑ گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُ س سے و ہ ا چھے مرا سم نہ سہی پر دوستو
ہم بھلے او ر و ہ برُا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
طیش میں بیٹھے ہیں جتنا آ پ اُس سے رُوٹھ کر
و ہ بھی اِ تنا ہی خفا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو ا بتک تمہا ری راہ تکتی ہے نظر
د ل کو بھی کچھ آ سرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ایک مصر عے سے جڑا ہو دوسرا مصرعہ کو ئی
ہم و ز ن ہم قا فیہ ہو ،إإإإ یہ ضروری تو نہیں
شا عر ی کیجئے مگر ہر شعر میں ا س شخص کی
بے و فائی کا گلا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُسکے بارے میں بہت کچھ شاعری میں کہہ دیا
لیکن ہم نے سچ کہا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
گرچہ ہم نے آپ سے ترکِ تعلق کر لیا
پر ہمیں اچھا لگا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو بیٹھے ہیں انور دوستوں کے درمیاں
دل بھی ا نکا لگ رہا ہو یہ ضروری تو نہیں
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






