پہلے لکھا تیرا نام ہم نے پھر قلم توڑ دیا
Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attockپہلے لکھا تیرا نام ہم نے پھر قلم توڑ دیا
بنا کے تیر زخمی دل میں کاغز کو موڑ دیا
تختہ تھا سیاہ اور سفید رنگ تھا چاک کا
اوڑھی ماتمی پوشاک کھلا گریباں کو چھوڑ دیا
ماتھے میں لکھا تھا در در کا بھٹکنا ہم دم
دے کے دیوار میں ہی سر اپنے کو پھوڑ دیا
مجنوں تھا قیس عشق کی زبوں حالی سے
لیلی نے بھرا زہر سے کاسہ رکابی کو توڑ دیا
چمک رہےتھے تارے پہر آخری تھا شب کا
بدلی کروٹ پھر پکڑ کر کہنی کو مروڑ دیا
بہت پی لیا پلا بھی لیا شب بھر جام تم نے
اٹھو سویراہے ہم نے تو ردا کو اوڑھ لیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






