پہلے لکھا تیرا نام ہم نے پھر قلم توڑ دیا
Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attockپہلے لکھا تیرا نام ہم نے پھر قلم توڑ دیا
بنا کے تیر زخمی دل میں کاغز کو موڑ دیا
تختہ تھا سیاہ اور سفید رنگ تھا چاک کا
اوڑھی ماتمی پوشاک کھلا گریباں کو چھوڑ دیا
ماتھے میں لکھا تھا در در کا بھٹکنا ہم دم
دے کے دیوار میں ہی سر اپنے کو پھوڑ دیا
مجنوں تھا قیس عشق کی زبوں حالی سے
لیلی نے بھرا زہر سے کاسہ رکابی کو توڑ دیا
چمک رہےتھے تارے پہر آخری تھا شب کا
بدلی کروٹ پھر پکڑ کر کہنی کو مروڑ دیا
بہت پی لیا پلا بھی لیا شب بھر جام تم نے
اٹھو سویراہے ہم نے تو ردا کو اوڑھ لیا
More Love / Romantic Poetry






