پہلے پہل تو مجھ کو ہچکی آتی تھی
Poet: آکاش اتھرو By: مصدق رفیق, Karachiپہلے پہل تو مجھ کو ہچکی آتی تھی
بعد میں تیرے نام کی چٹی آتی تھی
بانٹ لیا کرتے تھے دونوں گھر کا دکھ
وہ بھی دفتر تھوڑا جلدی آتی تھی
کب ملنا ہے اور کہاں پر ملنا ہے
کاپی میں رکھ کر یہ پرچی آتی تھی
ہم ملتے تھے اس سے ایسے موسم میں
جب سرسوں کے پھول پہ تتلی آتی تھی
باغوں کی جانب ہم دوڑ لگاتے تھے
آم کے موسم میں جب آندھی آتی تھی
ہم بچے بھی کتنا شور مچاتے تھے
شام کو جب بھی گاؤں میں بجلی آتی تھی
More Love / Romantic Poetry






