چہرہ وہ کیا تھا زیرِ شفق آفتاب تھا
Poet: Tariq Butt By: Gulbose, Karachiعکسِ رداے سُرخ سے چہرہ گلاب تھا
چہرہ وہ کیا تھا زیرِ شفق آفتاب تھا
پلکوں تلے وہ کیسی غضب روشنی سی تھی
روشن پسِ حجابِ نظر کس کا خواب تھا
عارض کی تابشوں سے جھلکتا تھا نازِ حسن
سرخی میں لب کی ، عشق سے کیا کیا خطاب تھا
مخمور کر رہا تھا مجھے نشہ نوا
لہجے کے زیرِو بم میں وہ کیفِ شراب تھا
اک بار اُس کو دیکھ کے، اُٹھی نہ پھر نگاہ
وہ حُسن تھا کہ آپ ہی اپنا حجاب تھا
یوں دیکھا اُس کو ، جیسے کہ دیکھا نہ ہو کبھی
ایسا لگا کہ جاگتے میں کوئی خواب تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






