ڈر کے مارے صبح کو کھولتے نہیں آنکھیں
Poet: johar mumtaz By: johar mumtaz, Lahoreڈر کے مارے صبح کو کھولتے نہیں آنکھیں
ملا ہے جو خواب میں کھو نہ جائے کہیں
تیرے پردے کی خاطر ملتا نہیں کسی سے
حُسن دنیا میں تیرا رسوا ھو نہ جائے کہیں
شبِ ہجر میں تیرے ملنے کے ہر وعدہ کا
دلاتےہیں یقین دل کو، سونہ جائے کہیں
ہم شبِ وصل میں اُنکی باںہوں میں مر گئے
اِک بہانہ یہی سُوجھا تھا کہ وہ نہ جائے کہیں
دیکھا اگر دل نےاُسے تو دل گنوا بیٹھیں گئے
نکلتے نہیں باہر کہ سامنا ہو نہ جائے کہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






