کبھی گھر بنا کے خوش ہوئے
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreکبھی گھر بنا کے خوش ہوئے، کبھی گھر جلا کے خوش ہوئے
کبھی خوشیاں اداس کر گئیں، کبھی غم پا کے خوش ہوئے
کوئی ڈھنگ نہیں تھا رہنے کا ہمیں، نہ ہی کوئی ٹھکانہ تھا کبھی
اک نام ہی بس پہچان بنی تھی، سو نام مٹا کے خوش ہوئے
چہرے خود ہی مسکراتے ہیں، جب خوش کوئی ہوتا ہے یہاں
ہم تو سب سے الگ سے ہیں، ہم آنسو بہا کے خوش ہوئے
جب محفلیں بھری بھری سی تھیں، ہم اداس پھرتے رہتے تھے
یہ عجب ہی شوق رہا ہے اپنا، ہم محفلیں لٹا کے خوش ہوئے
جو تنگ کرے بے سبب تمہیں، اسے سزا دینا تو قانون ہے یہاں
ہمیں تنگ کیا بس خود نے ہی، ہم خود کو مٹا کے خوش ہوئے
یادیں ماضی کی تلخ بھی ہیں، یادیں ماضی کی سہانی بھی
کوئی یاد آیا تو کھل اٹھے، کسی کو بھلا کے خوش ہوئے
کبھی سو جائیں تو ٹوٹتا ہے بدن، ایسی پڑی ہے رت جگے کی عادت
بارش میں بھیگیں تو جلتا ہے جسم، ہم آگ میں نہا کے خوش ہوئے
شوق ہمارا زندہ ہے اب تک، کبھی کبھی بلا لیتے ہیں ان کو
وہ ہر بار جھٹلا کے خوش ہوئے، ہم ہر بار بلا کے خوش ہوئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






