کتنا بے چین سا ہے یہ موسم
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratکتنا بے چین سا ہے یہ موسم
کہیں سے اے کا ش تیرا چہرہ دکھا ئی دے
دشت تیری چاہت کا ٹوٹ کے برسے اتنا
کے مجھ میں تو جل تھل رہے تو نہ مجھے رہا ئی دے
تیری نظرو ں کے حصار میں رہوں سدا سمٹی
جب بھی دیکھوں تیری نظروں کا پہرہ دکھائی دے
گردشِ دوام چاہت کی پھیلی رہے سدا یونہی
بقائے دوام میں تو میرا سدا دکھائی دے
کچھ سروکار نہیں زمانے سے اے دل مجھے
بس بہار ہو ایسی وہ ہی شاہکا ر دکھائی دے
اس قدر ٹوٹ کے برسے محبت تیری
میری زندگی کے ہر لمحے میں بس تو اور تو دکھائی دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






