کدھر گیا ہوگا
Poet: Aashi By: Aysha, killeenزہر غم دے کے مجھے جانے کدھر گیا ہوگا
غم جدائی میں شاید وہ مر گیا ہوگا
خلوص جس نے بسایا تھا اپنی باتوں میں
تمام لہجے کو اپنی وہ زہر کر گیا ہوگا
جب بے وجہ ہی جھلک جائیں آنکھ سے آنسو
تو یہ ہی سمجو دھواں آنکھوں میں بھر گیا ہوگا
جب روکے اپنے قدم اس نے تو میں نے یہ سمجھا
تمام عمر کے غم سے وہ ڈر گیا ہوگا
خود اپنے ہاتھ سے جھٹکا ہے دل نے خوشیوں کو
کہ خود فریبی میں رہ کر یہ بھر گیا ہوگا
تو کس کو ڈھونڈ رہی ہے ویرانے اب تک
تمھیں بھلا کے تو وہ شخص گھر گیا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






