یہ وادی، یہ پہاڑ، یہ دریاؤں کے نغمے
یہ خاکِ وطن کی دعائیں بھی سن لو
یہ زخموں کی گہرائی، یہ آنکھوں کے آنسو
یہ اہلِ وفا کی صدائیں بھی سن لو
ہر شام لہو میں نہائی ہوئی ہے
ہر صبح اجالوں میں ڈھلتی نہیں ہے
یہ کشمیر کی مٹی پکارے ہے احمر
محبت میں زنجیر جلتی نہیں ہے
یہاں ہر گلی میں کوئی خواب ٹوٹا
یہاں ہر طرف صرف چیخیں بسی ہیں
مگر حوصلہ آج بھی زندہ کھڑا ہے
یہ وادی کی زنجیر سے نہ دبی ہیں
یہی میری دھرتی، یہی میرا چہرہ
یہی میرا جینا، یہی میرا مرنا
یہ کشمیر کا احمر صدا دے رہا ہے
کہ ظلمت کا ہر زخم بھرنا ہی بھرنا