کوئی جنگل نہیں چھوڑا کوئی صحرا نہیں چھوڑا
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreکوئی جنگل نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔کوئی صحرا نہیں چھوڑا
دیارِ عشق کا ہم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کوچہ نہیں چھوڑا
ڈبو کر خونِ دل میں خُونچکاں پلکوں سے ۔۔۔۔لکھا ہے
کتابِ عشق کا صفحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی سادہ نہیں چھوڑا
جو لکھا تھا تیرے ہاتھوں نے پہلا خط ۔۔۔۔۔۔محبّت کا
زبانی یاد ہے مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر پڑھنا نہیں چھوڑا
اگرچہ جانتا ہے ریت پہ لکھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لا حاصل
تیرے مجنوں نےلیکن تم کو خط۔۔۔ لکھنا نہیں چھوڑا
طوفانِ نوح بھی آخر ۔۔۔۔۔۔۔کبھی تو رک گیا ہو گا
میری آنکھوں نے تیری یاد میں۔۔۔ بہنا نہیں چھوڑا
ہوئی مدّت کہ رُخصت ہو گئی۔۔۔ آنکھوں سے بینائی
تیری راہوں کو اُٹھ اُٹھ کر مگر۔۔۔۔ تکنا نہیں چھوڑا
ستارے باری باری بُجھ گئے ۔۔۔میری اُمیدوں کے
چراغِ راہ گزارِ عشق نے ۔۔۔۔۔۔..جلنا نہیں چھوڑا
عفونت پھیلتی جاتی ہے ارمانوں کی۔..۔۔ لاشوں سے
تیری یادوں کی بستی میں مگر۔۔.. ۔رہنا نہیں چھوڑا
میں لذّت آشنائے عشق ہوں۔۔۔۔. تُو کیا پلائے گا
اَبھی خونِ جگر میں نے مگر۔۔۔۔۔۔. پینا نہیں چھوڑا
پلاتا ہے غموں کے جام بھربھر کے۔..۔۔میرا ساقی
تو پھر الزام مجھ پہ کیوں ہے کہ۔۔..۔ پینا نہیں چھوڑا
لہو سب پی گئی میرا تیرے ہونٹوں کی۔.۔۔۔ رنگینی
تیرے شاعر نے تیری شان میں.. لکھنا نہیں چھوڑا
پرو لایا ہوں میں ہر قطرہءِ خوں .۔۔۔شعر میں اپنے
وہ کہتے ہیں کہ تُو نے جھوٹ کا۔..دھندہ نہیں چھوڑا
بیاں کرتے ہو شعروں میں لب و رخسار کی. باتیں
بڑھاپے میں بھی تُو نے کام یہ ..۔۔گندہ نہیں چھوڑا
وفاداری کی جاناں رسم ہم نے.۔۔۔یوں نبھائی ہے
سفرمیں ہو گئےمٹی مگر ۔۔۔۔.۔۔جادہ نہیں چھوڑا
اگر مجھ سے نہیں کوئی تعّلق تو..۔۔۔۔۔دلِ ناداں
میری رُسوائیوں کا اُسنے کیوں..۔۔ چرچا نہیں چھوڑا
اب اپنے آپ سے بھی بات۔.۔کرنا چھوڑ رکھا ہے
تمہاری یاد میں لیکن غزل ۔۔۔۔۔.کہنا نہیں چھوڑا
صحیفہ جان کر دن رات پڑھتاہوں۔.۔ عقیدت سے
تیرا چہرہ کتابی آج تک۔۔۔..۔۔۔ پڑھنا نہیں چھوڑا
گیا ہے چھوڑ کر وہ پاس میرے پیار کی۔۔۔۔۔خوشبُو
خدا کا شکر ہے اُس نے مجھے۔۔۔.۔۔تنہا نہیں چھوڑا
ہے اِس کے بعد باری شہر کے۔..۔۔ داناؤں کی یارو
اَبھی نادان بچّوں نے میرا ۔۔۔..۔پیچھا نہیں چھوڑا
میں اُسکی اِک نظر کے فیض سے۔.۔سب پی گیا یارو
کوئی ساغر کوئی کاسہ کوئی۔۔.۔۔۔۔ مینا نہیں چھوڑا
میں اُس زہرہ جبیں کے نام سے..سب توڑ لایا ہوں
کوئی سورج کوئی چندا ۔۔۔۔.۔کوئی تارہ نہیں چھوڑا
بہت ڈھونڈا تمہیں میں نے زمینوں ۔آسمانوں میں
کوئی منزل کوئی رستہ کوئی۔۔۔۔۔ جادہ نہیں چھوڑا
وہ جس نے چکھ لیا اِک گھونٹ میری پیاس۔. کا یارو
پھر اُس پیاسے نےساگر میں کوئی قطرہ نہیں چھوڑا
تمہاری یاد سے غافل رہا ہوں ۔۔کہہ دیا کس نے
کوئی ساعت کوئی لمحہ کوئی۔۔۔۔۔ لحظہ نہیں چھوڑا
میرے ساقی نے اپنی مست آنکھوں سے پلائی ہے
بھری محفل میں کوئی ایک بھی۔ پیاسا نہیں چھوڑا
اُٹھا دیتا ہے وہ ہر روز اُس کواپنی۔۔۔۔ محفل سے
وسیمِ ناتواں نے پھر بھی واں ۔۔جانا نہیں چھوڑا
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






