پکارتی ہوں تمہی کو ہر دم سمیٹ لو مجھ کو میرے ساجن

Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistan

تمہارے قدموں کی منتظر ہوں تمہی کو میں یاد کر رہی ہوں
تمہیں تو پرواہ کچھ نہیں ہے میں شام سے آہ بھر رہی ہوں

وفا کا جذبہ نہ ختم ہو گا یہ سلسلہ اب نہ تھم سکے گا
تمہاری الفت کے پھول لے کر یہ دیکھو پھر سے سنور رہی ہوں

ہر ایک لمحہ یہ سوچتی ہوں کہیں نہ کھو جاؤ تم جہاں میں
اے میرے ساتھی اے میرے ہمدم تمہارے کھونے سے ڈر رہی ہوں

ہجر نے سلگا دیا ہے تن من عجیب حالت ہے آج میری
الاؤ یادوں کا جل رہا ہے نہ جی رہی ہوں نہ مر رہی ہوں

پکارتی ہوں تمہی کو ہر دم سمیٹ لو مجھ کو میرے ساجن
یہ آندھیاں ہیں محبتوں کی میں تنکا تنکا بکھر رہی ہوں

یہ مانتی ہوں یہ جانتی ہوں ندی ہے منہ زور چاہتوں کی
مگر ہوں مجبور دل کے ہاتھوں میں اس میں سارہ اتر رہی ہوں

Rate it:
Views: 673
17 Nov, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL