کوئی مشکل بات نہیں تھی سیدھے سے افسانے میں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKکوئی مشکل بات نہیں تھی سیدھے سے افسانے میں
تم نے کتنی دیر لگا دی دِل کی بات بتانے میں
ہم دونوں نے مل کر جس ویرانے کو گلزار کیا
ہم سے پہلے بھی تھا کوئی ، شاید اُس ویرانے میں
جانے کب اُس شخص نے اپنی دنیا ایک بسا لی تھی
ہم تو بس مصروف رہے لفظوں کے پھول کھلانے میں
چاہت کی بربادی کے اِک تم ہی ذمے دار نہ تھے
شاید کوئی بھول ہوئی تھی ہم سے بھی انجانے میں
خوابوں کی تعبیر نہ دینا شیوہ ہو جن لوگوں کا
کتنے ماہر ہوتے ہیں وہ خوابوں سے بہلانے میں
ان کے تھے،ان کے ہیں اور ان کا ہی ہم کو رہنا ہے
ہم نے ساری عمر لگا دی ان کو یہ سمجھانے میں
ہو جائے نہ خاک نشیمن اپنا ، دشمن تاک میں ہے
وقت ہی کتنا لگتا ہے تنکوں کو آگ لگانے میں
کتنا اچھا دور تھا عذراؔ جب کوئی بھی فکر نہ تھی
ہم مصروف رہا کرتے تھے ہنسنے اور ہنسانے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







