کوئی کسی کو سچا پیار نہیں کرتا
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPKکوئی کسی کو سچا پیار نہیں کرتا۔
وقت ضایع اپنے بے کار نہیں کرتا۔
دل چیر کر رکھ دو صاحب کے سامنے
مگر! پھر بھی کوئی اعتبار نہیں کرتا۔
اس مطلب کی دنیا میں مطلب ہی چلتا ھے۔
ما سوا مطلب کے کوئی پیار نہیں کرتا۔
بس اک تمہارے یاد میں آنسو بہاتا ھے دل۔
وگرنہ ! تو کبھی آنکھیں اشکبار نہیں کرتا۔
مانا اس کو دکھ ھے کسی کے بچھڑنے کا۔
مگر غم ہجر میں خود کو گرفتار نہیں کرتا۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






