کچھ پل کو ٹہر جاؤ ، یہ شام بڑی بوجھل ہے
Poet: Faisal Sheikh By: Faisal Sheikh , Karachiکچھ پل کو ٹہر جاؤ ، یہ شام بڑی بوجھل ہے
مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ ، کہ شام بڑی بوجھل ہے
دور آسمان پر پھیلی ، زرد شفق کی لالی
گہرے سرمئی بادلوں کی چادر اوڑھے
احساس دلاتی ہے ، یہ شام بڑی بوجھل ہے
نکھرے پانی پہ ، بکھری ڈھلتے سورج کی کرنیں
لبِ ساحل سے پلٹ کر ٹکراتی ہوئی لہریں
یہ شور مچاتی ہیں کہ شام بڑی بوجھل ہے
رنگ قوسِ قزح کے ہر طرف پھیلے ہیں
پھر بھی بے کیف سماں لگتا ہے
ہزار رنگ سجائے بھی یہ شام بڑی بوجھل ہے
تھوڑی ہی دیر ہے ہر گام اندھیرا ہوگا
دل میں پھر تیری ہی کی یادوں کا بسیرا ہوگا
یہی کچھ سوچ کر کے شام بڑی بوجھل ہے
کچھ پل کو ٹہر جاؤ ، یہ شام بڑی بوجھل ہے
مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ ، کہ شام بڑی بوجھل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






