کیا پوچھتے ہو سبب اندھیروں کا
Poet: Ali Raza By: ali raza, garh moreکیا پوچھتے ہو سبب اندھیروں کا
کرنوں پہ پہرہ ہے بادلوں کا
وہ چراغ جن میں لہوجلتا ہے
جانتا ہے وہ رخ ہواؤں کا
ان کے ہاتھ نہیں پڑنے والے در پ
ضرور ہو گا یہ کھیل ہواوں کا
کس کی آمد سے کھلبلی ہے
بہار آئ ہے؟ یا دھوکہ فضاؤں کا
گھر سجایا تھا جس ستم گر کیلئے
پاؤں پہ مہندی لگائے صلہ دیتے وفاؤں کا
سنا ہے غیر سے ملنے کی ہے تیاری
یوں نہ دے خالق صلہ میری خطاؤں کا
انا پرستی ہے یا خود غرضی ہے سب چپ ہیں
شہر جلتا ہے ان گونگے خداؤں کا
کوئ جان سے جاتا ہے تو جائے رضا
وہ باب کھول کے بیٹھے ہیں اپنی اداؤں کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






