کیسے کٹے دِن رات نہ پوچھ
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKکیسے کٹے دِن رات نہ پوچھ
تو مجھ سے یہ بات نہ پوچھ
اپنے دِل کا مول بتا
تو میری اوقات نہ پوچھ
رم جھم رم جھم اشکوں کی
کِس نے دی سوغات نہ پوچھ
عشق سراپا ہوں دِلبر
مجھ سے میری ذات نہ پوچھ
روز پلٹ جاتی ہے کیوں
تاروں کی بارات نہ پوچھ
تجھ بِن کیسے بیتے گی
اب کہ یہ برسات نہ پوچھ
اُس نے کیونکر چھوڑا تھا
تھام کے میرا ہاتھ نہ پوچھ
کیوں کھا جاتے ہیں عذرا
جیون کو صدمات نہ پوچھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






