ہجر میں درد سہا جائے گا کیا لگتا ہے

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

ہجر میں درد سہا جائے گا کیا لگتا ہے
زیست بھر تنہا رہا جائے گا کیا لگتا ہے

جاتے جاتے جو گیا چھوڑ کے یادیں اپنی
لوٹ کر وہ کبھی آ جائے گا کیا لگتا ہے

کیسے تنہائی میں دن رات کٹیں گے میرے
سوز ہجراں میں جیا جائے گا کیا لگتا ہے

جاتے ہوئے میں نہیں روک سکا ہوں اس کو
میری وہ بھول خطا جائے گا کیا لگتا ہے

رکھا ہر حال میں ہے اس کی محبت کا بھرم
کرتے ہوئے وہ دعا جائے گا کیا لگتا ہے

دیکھتے لوگ حقارت کی نظر سے ہیں مجھے
حال دل میرا سنا جائے گا کیا لگتا ہے

جب برے وقت میں تھا ساتھ دیا ہے اس کا
میرا وہ قرض لٹا جائے گا کیا لگتا ہے

کرتا بے لوث محبت ہے جدا ہوتا نہیں
چھوڑ کر تنہا جائے گا کیا لگتا ہے

اس سے شہزاد ملاقات ضروری ہوگی
بعد مدت کے ملا جائے گا کیا لگتا ہے

Rate it:
Views: 99
07 Feb, 2026
More Sad Poetry