ہجر میں درد سہا جائے گا کیا لگتا ہے
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahہجر میں درد سہا جائے گا کیا لگتا ہے
زیست بھر تنہا رہا جائے گا کیا لگتا ہے
جاتے جاتے جو گیا چھوڑ کے یادیں اپنی
لوٹ کر وہ کبھی آ جائے گا کیا لگتا ہے
کیسے تنہائی میں دن رات کٹیں گے میرے
سوز ہجراں میں جیا جائے گا کیا لگتا ہے
جاتے ہوئے میں نہیں روک سکا ہوں اس کو
میری وہ بھول خطا جائے گا کیا لگتا ہے
رکھا ہر حال میں ہے اس کی محبت کا بھرم
کرتے ہوئے وہ دعا جائے گا کیا لگتا ہے
دیکھتے لوگ حقارت کی نظر سے ہیں مجھے
حال دل میرا سنا جائے گا کیا لگتا ہے
جب برے وقت میں تھا ساتھ دیا ہے اس کا
میرا وہ قرض لٹا جائے گا کیا لگتا ہے
کرتا بے لوث محبت ہے جدا ہوتا نہیں
چھوڑ کر تنہا جائے گا کیا لگتا ہے
اس سے شہزاد ملاقات ضروری ہوگی
بعد مدت کے ملا جائے گا کیا لگتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






