ہمارا پیار ملاقات سے پہلے بھی تھا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہمارا پیار ملاقات سے بھی پہلے تھا
یہ ہجر کرب مصافات سے بھی پہلے تھا
نہیں جو روز ابھی کال آتی اب ان کی
یہ مسئلہ تو شروعات سے بھی پہلے تھا
نہیں جو آتا مجھے ملنے کرکے بھی وعدے
یہی ولی کی کرامات سے بھی پہلے تھا
قبول ہوئی نہیں ہے دعا مرے حق میں
معاملہ بڑے خدشات سے بھی پہلے تھا
کسی کا جل رہا ہے آشیانہ دو دن سے
دھواں یہ گزری ہوئی رات سے بھی پہلے تھا
لٹا رہا ہوں خوشی سے جو اپنی میں دولت
امیر میں برے حالات سے بھی پہلے تھا
نصیب میرے برے ہیں کیا کروں شہزاد
غریب کوئی مری ذات سے بھی پہلے تھا
More Love / Romantic Poetry






