ہوا کے رخ پہ کھلی زلف یار لگتی ہے
Poet: وقاص By: وقاص, Kohatہوا کے رخ پہ کھلی زلف یار لگتی ہے
نسیم صبح بہت مشکبار لگتی ہے
ادا ہماری اسے ناگوار لگتی ہے
یہ سادگی بھی اسے کاروبار لگتی ہے
ترے بغیر تو گل بوٹے خار لگتے ہیں
تو ساتھ ہے تو خزاں بھی بہار لگتی ہے
تمام رات ہی کروٹ بدلتے رہتے ہو
تمہارے دوش پہ دنیا سوار لگتی ہے
اداسیوں کا ہے صحرا کسی کے چہرے پر
یہ کائنات بڑی سوگوار لگتی ہے
جسے بھی دیکھیے تر ہے وہ خون میں دانشؔ
یہ ساری بستی ہمیں خار دار لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






