ہے عجب لو کسی کے چہرے میں
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiخواب میں یا شکستِ خواب میں گم
ہم ہی دریا ہمیں سراب میں گم
کوئی منظر کہیں، نہ نظارہ
سب ہیں اپنی نظر کی آب میں گم
کتنے دل ڈوبے آفتاب کے ساتھ
کتنی آنکھیں ہیں مہتاب میں گم
ہے عجب لو کسی کے چہرے میں
دھوپ کی اک کرن گلاب میں گم
آنکھ تو کھول ہم بھی تو دیکھیں
کتنے عالم ہیں اس حباب میں گم
سامنے اپنے آئینہ رکھ کر
حسن ہے حسنِ انتخاب میں گم
ہم نے پوچھا تھا روشنی کیا ہے
اور اندھیرے ہوئے جواب میں گم
ہم نے آواز دی بہت دل کو
جانے وہ کس سے تھا خطاب میں گم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






