یاد تیری ستانے لگی ہے مجھے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaیاد تیری ستانے لگی ہے مجھے
اور بتلاؤ جاں کیسے بھولوں تجھے
آنسو گر کر سیاہی یہ بننے لگے
اور کہنے لگی ہے زبانِ قلم
جان آجاو تم جان آ جاو تم
دہر میں جاناں اب تو اکیلا ہوں میں
جو سبھی کے لئے ہی سوتیلا ہوں میں
تیرے بعد اب کوئی پیار کرتا نہیں
تیری یادوں میں اکثر میں رہتا ہوں گم
جان آ جاو تم جان آ جاو تم
بھول کر آج میں سب کی سب رنجشیں
توڑ کر چل پڑا ہوں سبھی بندشیں
راستے میں مقدر سے الجھا ہوں میں
بس تجھے ملنے کے واسطے اے صنم
جان آ جاو تم جان آ جاو تم
اب کے محبوب آ تو مرے پاس آ
راستے کی دیواریں،صفیں چیر جا
مٹتے جائیں گے وہ خود بخود جعفری
اس جدائی میں دل پر جو آئے زخم
جان آ جاو تم جان آ جاو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






