یہ جو وحشت خمار لمحے ہیں
Poet: قاسم علی مکھن شاہی By: Qasim Ali Makhan shahi, Distrct RYK. Sadiqabadیہ جو وحشت خمار لمحے ہیں
یا جو آنکھوں کے گرد ہلکے ہیں
یہ تو ایک عام سی نشانی ہے
عاشقوں کی یہ عادت پرانی ہے
رو رو کے آنکھیں وہ سجا لیتے ہیں
دریا میں لہروں کی طرح بہتے ہیں
اور اکثر وہ یہی کہتے ہیں
ستم ہے یا مہربانی ہے کسی کے بعد کی کہانی ہے
میں کہتا ہوں یہ رت بڑی سہانی ہے
اسی طرح جینا ہی زندگانی ہے
More Love / Romantic Poetry






