یہ خواب مرے ٹوٹ
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiیہ خواب ٹوٹ گئے ہیں مرے سہانے سے
کیا ملا ہے تجھے مجھ کو یوں رلانے سے
نہایا صبح سویرے کرو خوشی سے تم
ہو سردی ختم جاتی ہے یوں نہانے سے
کبھی کبھار ملاقات کر لیا کرو تم
نہیں میں کال کروں گا کبھی بہانے سے
فراق ہجر یہ وصلِ نشاط غم کا مزا
یہ بھولتے ہیں کہاں دل سے یوں بھلانے سے
یہ زندگی کا سفر ہم سفر کے ساتھ کیا
خوشی ملی ہے مجھے یار کو گھمانے سے
فریب دینا محبت میں ہوتا اچھا نہیں
نصیب جاگے ہیں عہدِ وفا نبھانے سے
کرو گے عشق تو الزام آئے گا شہزاد
یہ راز چھپتا نہیں ہے کبھی چھپانے سے
More Love / Romantic Poetry






