یہ کن خیالوں میں رابطے بھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ کن خیالوں میں رابطے بھی
جو تجھ کو سوچا تلاشتے بھی
ملا ہی کیا بیٹھے سوچتے بھی
نہ پیار پایا ،نہ ضابطے بھی
مری وفا کی یہ انتہا ہے
یہ بیج چاہت کے راستے بھی
یہ تیری خاطر دلِ تمنا
یہ ہاتھ اپنے پکارتے بھی
عجیب دن ہیں ،عجیب راتیں
ہے ساتھ کوئی تو جاگتے بھی
تلاش میں ایک بے وفا کی
گنوا دیا جو وہ مانگتے بھی
میں ایک تیری ہی جستجو میں
یہ چاند تارےاتارتے بھی
قصور کیا تھا کوئی بتائے
دہکتے صحرا میں بھاگتے بھی
وہ اک محبت کی کیا نظر تھی
کہ وشمہ یوں ہی سنوارتے بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






