مجھ کو بھی کوئی ہمدم و ہم راز چاہیے
Poet: خالد ندیم By: Khalid Nadeem, Sargodhaمجھ کو بھی کوئی ہمدم و ہم راز چاہیے
نغمہ ہے میرے پاس ، بس اِک ساز چاہیے
میری جبینِ شوق میں سو سو نیاز ہیں
لیکن کسی میں حوصلۂ ناز چاہیے
گلشن میں اب بہار بھی ہے ، رنگ و بو بھی ہیں
بلبل بھی اس میں زمزمہ پرداز چاہیے
منکر ہے کون وسعتِ افلاک کا ، مگر
شاہین کو بھی رفعتِ پرواز چاہیے
اہلِ فلک کو چھوڑیے ، ان کے نصیب ہیں
ہم خاک پر ہیں ، ہم کو تگ و تاز چاہیے
تجھ کو ہے انتہاے محبت کی آرزو
لیکن مجھے کہیں سے تو آغاز چاہیے
خالد ندیم! میرے لیے بھی دعا کریں
مجھ کو بھی کوئی آپ سا دم ساز چاہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






