اشک گرنے کو ہے تیار نہ کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااشک گرنے کو ہے تیار نہ کر
بس زیادہ مجھے بیزار نہ کر
سطح پر تیر رہے ہیں دن رات
نیند اک خواب کا ہے وار نہ کر
ان پرندوں کا پلٹ کر آنا
ایک تخیل سے انکار نہ کر
عکس بھی غیر ہے آئینہ بھی
یہ تحیر ہے کا اظہار نہ کر
ان دریچوں سے کہ جو تھے ہی نہیں
اک اداسی ہے کہ درنہ کر
دل نمودار ہوا ہے دل میں
آنکھ سے آنکھ کا اقرار نہ کر
اس کی آنکھوں کی خموشی وشمہ
ڈوبتے وقت سے بیزار نہ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






