اشک گرنے کو ہے تیار نہ کر

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

اشک گرنے کو ہے تیار نہ کر
بس زیادہ مجھے بیزار نہ کر

سطح پر تیر رہے ہیں دن رات
نیند اک خواب کا ہے وار نہ کر

ان پرندوں کا پلٹ کر آنا
ایک تخیل سے انکار نہ کر

عکس بھی غیر ہے آئینہ بھی
یہ تحیر ہے کا اظہار نہ کر

ان دریچوں سے کہ جو تھے ہی نہیں
اک اداسی ہے کہ درنہ کر

دل نمودار ہوا ہے دل میں
آنکھ سے آنکھ کا اقرار نہ کر

اس کی آنکھوں کی خموشی وشمہ
ڈوبتے وقت سے بیزار نہ کر

Rate it:
Views: 437
06 Mar, 2018