نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
Poet: ✍️مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiنہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے
نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے
میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے
تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے
کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے
میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے
نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے
یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے
بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے
تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے
مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






