کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی

نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی

اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی

دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی

کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی

وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی

سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی

جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی

Rate it:
Views: 23
29 Apr, 2026
More Love / Romantic Poetry