تو میں کر لوں یقین
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaتو میں کر لوں یقین
تم میرے سامنے ہو
میرے ساتھ ہو
مجھے دیکھ رہے ہو
جیسے کوئی گلاب ہو
نظریں بھی نہیں ہٹاتے ہو
جیسے اس دنیا سے انجان ہو
تو میں کر لوں یقین
میری دعائیں رنگ لے آئی ہیں
بہت دور سے تمہیں
اپنے سنگ لے آئی ہیں
میرے آنسو خشک ہو گئے
ذرد پتوں پر پھول کھل گئے
میری کسی نیکی کے بدلے
مجھے تم مل گئے
تو میں کر لوں یقین
میرا نام تمہارے نام سے جڑ گیا
یہ دشمن زمانہ دوست بن گیا
جنہوں سے ُجدا کیا تھا
قدرت سے انہیں ہی
ملانے کا موقع دیا
میرا دل مسافر تھا
عشق سمندر میں
جیسے اک چاہنے والا سفینہ مل گیا
تو میں کر لوں یقین
یہ خواب نہیں حقیقت ہے
میری مددت کی
مسافتیوں کی منزل ہے
میری زندگی میں
خوشیوں کی آمد ہے
میرے سجنے سنوارنے کی عمر ہے
ادھوری کہانی کو
مکمل کرنے کی ضرورت ہے
تو میں کر لوں یقین
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






