بہار کا پہلا گلاب کھل رہا ہے آج
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaتپش سورج کی اوپر سے ٹھنڈی ہوا
اور دیکھوں نیلا فلک بھی ہو رہا ہے آج
کانٹوں سی زندگی ختم ہوئی
بہار کا پہلا گلاب کھل رہا ہے آج
تیرے وعدوں کی بقاء کا دن بھی آ گیا
سنا ہے کوئی وعدے وفا کر رہا ہے آج
تیرے لبوں کا ہلنا تھا کہ دل مچل گیا
نظریں جھکائے اک ارمان دستک کر رہا ہے آج
ٹوٹی چوڑیوں کو دیکھ کر کیا اندازہ لگاتے ہو
شرم سے خود میں کوئی مر رہا ہے آج
سرہانے رکھا تھا اک خواب سونے سے پہلے
وہ نیند میں مددت کے بعد بات کر رہا ہے آج
میرے ہاتھ سے بنا چائے کا مگ پی لیا ایک پل میں
ُاسے بعد میں ہنسی آئی زمانہ ُاسے دیکھ رہا ہے آج
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






