Poetries by Anjum Yusaf
پھر ٹارگٹ کلنگ پھر کراچی میں کوئی مارا گیا بازار میں
ٹارگٹ کلنگ شروع پھر ہو گئی اس شہر میں
پھر مریں گے لوگ اور قاتل نہ پکڑے جائیں گے
پھر وزیر داخلہ نے اس کا نو ٹس لے لیا
پھر وزیر داخلہ تشریف لائیں گے یہاں
پھر کمرشل بریک آ جائے گی رک جائیں گے قتل
اس کمرشل بریک میں پھر راگ الاپے جائیں گے
اس سے پہلے سن چکے ھیں راگ وہ کتنی ہی با ر
راگ عقیدت کے محبت کے جناح کے شہر سے
راگ مل کے روکنے کے خونِ ناحق کو یہا ں
راگ اِک نادیدہ قوّت کے اشاروں کےیہاں
یونہی سنتے جائیں گے ھم راگ کچھ دیر اور یا ں
اور پھر……..
پھر کمرشل بریک کو توڑا کسی کی چیخ نے
پھر کراچی میں کوئی مارا گیا بازار میں
پھر وزیر داخلہ نے سخت نوٹس لے لیا m.y.anjum
ٹارگٹ کلنگ شروع پھر ہو گئی اس شہر میں
پھر مریں گے لوگ اور قاتل نہ پکڑے جائیں گے
پھر وزیر داخلہ نے اس کا نو ٹس لے لیا
پھر وزیر داخلہ تشریف لائیں گے یہاں
پھر کمرشل بریک آ جائے گی رک جائیں گے قتل
اس کمرشل بریک میں پھر راگ الاپے جائیں گے
اس سے پہلے سن چکے ھیں راگ وہ کتنی ہی با ر
راگ عقیدت کے محبت کے جناح کے شہر سے
راگ مل کے روکنے کے خونِ ناحق کو یہا ں
راگ اِک نادیدہ قوّت کے اشاروں کےیہاں
یونہی سنتے جائیں گے ھم راگ کچھ دیر اور یا ں
اور پھر……..
پھر کمرشل بریک کو توڑا کسی کی چیخ نے
پھر کراچی میں کوئی مارا گیا بازار میں
پھر وزیر داخلہ نے سخت نوٹس لے لیا m.y.anjum
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
جہاں پہ ترسیں عدل کو عادل
سیاسی ڈھال کے پیچھے قاتل
چور لٹیرے ووٹ کما کے
حاکم بن جائیں جس دھرتی کے
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
گردہ بیچ کوئی قرض چکائے
کسی کو قرضہ بخشا جائے
ماں بچوں کی بھوک کی خاطر
بیچنے ان کو سڑک پہ لائے
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
بے وقعت ہے جہاں پہ ھستی
آٹا مہنگا موت ہے سستی
دولت عزت کا پیمانہ
غربت بھی بن جائے طعنہ
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
یہ دھرتی جیسی کیسی ھے
یہ دھرتی میری دھرتی ھے
اس سے میں منہ موڑ نہیں سکتا
اس سے رشتہ توڑ نہیں سکتا
اس دھرتی نے مجھ کو جنما
اس دھرتی نے مجھ کو پا لا
اس کی مٹی میں خوشبو ہے
خوشبو میرے اپنوں کی ھے
میرے سندر سپنوں کی ھے
میرے بیتے لمحوں کی ھے
یہ دھرتی میری دھرتی ہے
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو yusaf anjum
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
جہاں پہ ترسیں عدل کو عادل
سیاسی ڈھال کے پیچھے قاتل
چور لٹیرے ووٹ کما کے
حاکم بن جائیں جس دھرتی کے
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
گردہ بیچ کوئی قرض چکائے
کسی کو قرضہ بخشا جائے
ماں بچوں کی بھوک کی خاطر
بیچنے ان کو سڑک پہ لائے
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
بے وقعت ہے جہاں پہ ھستی
آٹا مہنگا موت ہے سستی
دولت عزت کا پیمانہ
غربت بھی بن جائے طعنہ
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو
یہ دھرتی جیسی کیسی ھے
یہ دھرتی میری دھرتی ھے
اس سے میں منہ موڑ نہیں سکتا
اس سے رشتہ توڑ نہیں سکتا
اس دھرتی نے مجھ کو جنما
اس دھرتی نے مجھ کو پا لا
اس کی مٹی میں خوشبو ہے
خوشبو میرے اپنوں کی ھے
میرے سندر سپنوں کی ھے
میرے بیتے لمحوں کی ھے
یہ دھرتی میری دھرتی ہے
اس دھرتی سے پیار ھے مجھ کو yusaf anjum
تیری یاد کا آنچل سایہ پیاسا جیون تپتی راھیں
خاموشی کو ڈستی آھیں
ظلم کی چکّی پستے انساں
ظالم انساں ھنستے انساں
سُوجھ بُوجھ سے خالی سوچیں
دُھند میں گُم متلاشی نظریں
تار تار سروں کی چادر
بھوک کے ھاتھوں بکتے انساں
کسی کا جیون اِک لمحہ سا
رات کسی کی ایک صدی سی
کسی کی قسمت مانگ ستارے
خون کےچھینٹے کسی کی مہندی
ھونٹوں پر مسکان کی کرچیں
گالوں پر برفانی آنسو
نیند خواب میں بسی حقیقت
جاگتی آنکھوں سُندر سپنا
پہچانی آنکھوں کے اندر
انجانا سا خوف ہے ہر دم
اندھیارا چھٹنے سے پہلے
اک اندھیارا اور مُسّلط
رات کی چھائی دیکھ حکومت
خود کو رات کا عادی کر لیں
پل دو پل جینے کی خاطر
نعش کا رُوپ بہروپ بنا لیں
یاس میں ڈُوبی جلتی سانسیں
پیاسا جیون تپتی راھیں
تیرے خیال کی خوشبو ٹھنڈک
تیری یاد کا آنچل سایہ Yusaf Anjum
خاموشی کو ڈستی آھیں
ظلم کی چکّی پستے انساں
ظالم انساں ھنستے انساں
سُوجھ بُوجھ سے خالی سوچیں
دُھند میں گُم متلاشی نظریں
تار تار سروں کی چادر
بھوک کے ھاتھوں بکتے انساں
کسی کا جیون اِک لمحہ سا
رات کسی کی ایک صدی سی
کسی کی قسمت مانگ ستارے
خون کےچھینٹے کسی کی مہندی
ھونٹوں پر مسکان کی کرچیں
گالوں پر برفانی آنسو
نیند خواب میں بسی حقیقت
جاگتی آنکھوں سُندر سپنا
پہچانی آنکھوں کے اندر
انجانا سا خوف ہے ہر دم
اندھیارا چھٹنے سے پہلے
اک اندھیارا اور مُسّلط
رات کی چھائی دیکھ حکومت
خود کو رات کا عادی کر لیں
پل دو پل جینے کی خاطر
نعش کا رُوپ بہروپ بنا لیں
یاس میں ڈُوبی جلتی سانسیں
پیاسا جیون تپتی راھیں
تیرے خیال کی خوشبو ٹھنڈک
تیری یاد کا آنچل سایہ Yusaf Anjum
پھر ٹارگٹ کلنگ پھر کراچی میں کوئی مارا گیا بازار میں
ٹارگٹ کلنگ شروع پھر ہو گئی اس شہر میں
پھر مریں گے لوگ اور قاتل نہ پکڑے جائیں گے
پھر وزیر داخلہ نے اس کا نو ٹس لے لیا
پھر وزیر داخلہ تشریف لائیں گے یہاں
پھر کمرشل بریک آ جائے گی رک جائیں گے قتل
اس کمرشل بریک میں پھر راگ الاپے جائیں گے
اس سے پہلے سن چکے ھیں راگ وہ کتنی ہی با ر
راگ عقیدت کے محبت کے جناح کے شہر سے
راگ مل کے روکنے کے خونِ ناحق کو یہاں
راگ اِک نادیدہ قوّت کے اشاروں کے یہاں
یونہی سنتے جائیں گے ھم راگ کچھ دیر اور یہاں
اور پھر
پھر کمرشل بریک کو توڑا کسی کی چیخ نے
پھر کراچی میں کوئی مارا گیا بازار میں
پھر وزیر داخلہ نے سخت نوٹس لے لیا Yusaf Anjum
ٹارگٹ کلنگ شروع پھر ہو گئی اس شہر میں
پھر مریں گے لوگ اور قاتل نہ پکڑے جائیں گے
پھر وزیر داخلہ نے اس کا نو ٹس لے لیا
پھر وزیر داخلہ تشریف لائیں گے یہاں
پھر کمرشل بریک آ جائے گی رک جائیں گے قتل
اس کمرشل بریک میں پھر راگ الاپے جائیں گے
اس سے پہلے سن چکے ھیں راگ وہ کتنی ہی با ر
راگ عقیدت کے محبت کے جناح کے شہر سے
راگ مل کے روکنے کے خونِ ناحق کو یہاں
راگ اِک نادیدہ قوّت کے اشاروں کے یہاں
یونہی سنتے جائیں گے ھم راگ کچھ دیر اور یہاں
اور پھر
پھر کمرشل بریک کو توڑا کسی کی چیخ نے
پھر کراچی میں کوئی مارا گیا بازار میں
پھر وزیر داخلہ نے سخت نوٹس لے لیا Yusaf Anjum