ادب سے ہو کے بھی نہیں سمجھے ہیں ادب کو جو

Poet: ✍️مظہرؔ اقبال گوندل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

ادب سے ہو کے بھی نہیں سمجھے ہیں ادب کو جو
بے مروّت ہوشیار لوگ کبھی باادب نہیں ہوتے

کسی کے درد کی خاطر جو بنتے ہی نہیں ہمدم،
وہ دنیا میں محبت کا کوئی سبب نہیں ہوتے

عجب لوگوں کی بستی ہے، عجب دستور ہے یارو،
یہاں سچے سخن والے کبھی پرطرب نہیں ہوتے

حسب، نسب پہ اترانا کہاں کی ہے بزرگی پھر،
بڑے کردار والے لوگ اہلِ نسب نہیں ہوتے

ادب، اخلاص اور ایثار جن کے دل میں زندہ ہوں،
وہ لوگوں کے لیے باعثِ کوئی غضب نہیں ہوتے

رجب کی برکتوں سے جو منوّر ہو گئے دل سے،
وہ راہِ حق سے ہٹ کر کبھی بے سبب نہیں ہوتے

جو دولت کے نشے میں دوسروں کو کم سمجھتے ہیں
وہ چاہے صاحبِ زر ہوں، مگر باادب نہیں ہوتے

لعبِ دنیا میں کھو کر جو بھلا بیٹھیں خدا کو بھی،
وہ آخر کار منزل کے کبھی ہم عقب نہیں ہوتے

مظہرؔ یہ یاد رکھنا، عزتیں کردار دیتا ہے،
فقط حسب و نسب والے کبھی باادب نہیں ہوتے

Rate it:
Views: 0
22 Jun, 2026
More Love / Romantic Poetry