کہاں ہو تم کہ شددت سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں میں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaکہاں ہو تم کہ شددت سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں میں
راستہ دیکھتے دیکھتے خود کو بیقرار کر رہی ہوں میں
کر لیا آج روشن کمرہ خوشی سے میں نے
ساحل پر کھڑی آفتاب سے بات کر رہی ہوں میں
تجھے دیکھتے ہی کیا بھول جانے تھے سب شکویے
کتنی نادانی سے خود سے سوال کر رہی ہوں میں
تیرے چھونے کی دیر تھی کہ درد غائب ہو گیا
جس کی شفاء کے لیے مددت سے دعا کر رہی ہوں میں
میرے لبوں کی مسکان بھی کیا تم سے ہے ؟
یقین مانو سالوں سے ہسنے کی کوشش کر رہی ہوں میں
یہ کیا کہہ دیا اچانک سے تم نے
اک لمبی سانس لے کر اپنا حال بیان کر رہی ہوں میں
تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو میرے دل میں ہیں
لیکن وہ بات کرنے میں پہل کر رہی ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






