تم سے بچھڑی ،شبِ اداسی ہوں
اب تو میں جیسے غم کی داسی ہوں
اس نے چھوڑا تو راستہ بھٹکی
اب تو ویرانیوں کی باسی ہوں
لوگ کہتے ہیں بے وفا مجھ کو
ورنہ میں اُس کے گھر کی ماسی ہوں
وہ تو دریا کی شکل بہتا ہے
در حقیقت میں اس کی پیاسی ہوں
بد نصیبی یہ مجھ سے کہتی ہے
میں ہی وشمہ تری اداسی ہوں