جب تک سفر میں ہوں مری ماں دعا میں رہتی ہے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستان

جب تک سفر میں ہوں مری ماں دعا میں رہتی ہے
نگاہ اُس کی مرے ہر نقشِ پا میں رہتی ہے

میں جب بھی گھر سے نکلوں تو دل یہ کہتا ہے
وہ ایک ہستی مرے حق کی صدا میں رہتی ہے

ہوا کے رخ پہ بھی ماں کی نظر ٹھہرتی ہے
وہ میرے واسطے ہر دم وفا میں رہتی ہے

میں ڈوب جاؤں اگر غم کے کسی اندھیرے میں
مرے لیے وہ چراغوں کی ضیا میں رہتی ہے

کبھی جو ٹوٹ کے بکھروں تو یہ گماں ہو مجھے
مری ہر ایک شکست اُس کی رضا میں رہتی ہے

وہ میرے درد کو خود سے جدا نہیں کرتی
عجیب بات ہے، میری قضا میں رہتی ہے

وشمہ یہ اُس کی محبت کا معجزہ ہی تو ہے
مری تمام خوشی اُس کی دعا میں رہتی ہے

Rate it:
Views: 47
10 May, 2026
More Love / Romantic Poetry